افسانہ : میلہ گھومنی لکھاری : علی عباس حسینی کانوں کی سنی نہیں کہتا آنکھوں کی دیکھی کہتا ہوں۔ کسی بدیسی واقعے کا بیان نہیں اپنے ہی دیس کی داستان ہے۔ گاؤں گھر کی بات ہے۔ جھوٹ سچ کا الزام جس کے سر پر چاہے رکھیے۔ مجھے کہانی کہنا ہے اور آپ کو سننا۔ دو بھائی تھے چنو اور منو نام۔ کہلاتے تھے پٹھان۔ مگر نا نہال جولاہے ٹولی میں تھا اور دادیہال سید واڑے میں۔ ماں پرجا کی طرح میر صاحب کے ہاں کام کرنے آئی تھی۔ ان کے چھوٹے بھائی صاحب نے اس سے کچھ اور کام بھی لئے اور نتیجے میں ہاتھ آئے چنو منو۔ وہ تو یاد گاریں چھوڑ کر جنت سدھارے اور خمیازہ بھگتا بڑے میر صاحب نے۔ انھوں نے بی جولاہن کو ایک کچا مکان عطا کیا اور چنو منو کی پرورش کے لئے کچھ روپے دیے۔ وہ دونوں پلے اور بڑے اچھے ہاتھ پاؤں نکالے۔ چنو ذرا سنجیدہ تھا۔ ہوش سنبھالتے ہی میر صاحب کے کارندوں میں ملازم ہوا اور ہم سن میر صاحبان کا مصاحب بنا۔ منولاابالی تھا۔ اہیروں کے ساتھ اکھاڑوں میں کشتی لڑا کرتا اور نام کے لئے کھیتی باڑی کرنے لگا۔ لیکن دونوں جوان ہوتے ہی اعصاب کا شکار ہوئے۔ خون کی گرمیاں وراثت اور ماحول سے ملی تھیں۔ دونوں ج...
افسانہ : اوور کوٹ لکھاری : غلام عباس جنوری کی ایک شام کو ایک خوش پوش نوجوان ڈیوس روڈ سے گزر کر مال روڈ پر پہنچا اور چیرنگ کراس کا رخ کر کے خراماں خراماں پٹری پر چلنے لگا۔ یہ نوجوان اپنی تراش خراش سے خاصا فیشن ایبل معلوم ہوتا تھا۔ لمبی لمبی قلمیں، چمکتے ہوئے بال، باریک باریک مونچھیں گویا سرمے کی سلائی سے بنائی گئی ہوں۔ بادامی رنگ کا گرم اوور کوٹ پہنے ہوئے جس کے کاج میں شربتی رنگ کے گلاب کا ایک ادھ کھلا پھول اٹکا ہوا، سر پر سبز فلیٹ ہیٹ ایک خاص انداز سے ٹیڑھی رکھی ہوئی، سفید سلک کا گلوبند گلے کے گرد لپٹا ہوا، ایک ہاتھ کوٹ کی جیب میں، دوسرے میں بید کی ایک چھوٹی چھڑی پکڑے ہوئے جسے کبھی کبھی مزے میں آ کے گھمانے لگتا تھا۔ یہ ہفتے کی شام تھی۔ بھر پور جاڑے کا زمانہ۔ سرد اور تند ہوا کسی تیز دھار کی طرح جسم پر آ کے لگتی تھی مگر اس نوجوان پر اس کا کچھ اثر معلوم نہیں ہوتا تھا۔ اور لوگ خود کو گرم کرنے کے لیے تیز قدم اٹھا رہے تھے مگر اسے اس کی ضرورت نہ تھی جیسے اس کڑکڑاتے جاڑے میں اسے ٹہلنے میں بڑا مزا آ رہا ہو۔اس کی چال ڈھال سے ایسا بانکپن ٹپکتا تھا کہ تانگے والے دور ...
نظم کا عنوان: سزا شاعر: جون ایلیا ہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میں تم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تم میں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میں تم مجھ کو جان کر ہی پڑی ہو عذاب میں اور اس طرح خود اپنی سزا بن گیا ہوں میں تم جس زمین پر ہو میں اس کا خدا نہیں پس سر بسر اذیت و آزار ہی رہو بیزار ہو گئی ہو بہت زندگی سے تم جب بس میں کچھ نہیں ہے تو بیزار ہی رہو تم کو یہاں کے سایہ و پرتو سے کیا غرض تم اپنے حق میں بیچ کی دیوار ہی رہو میں ابتدائے عشق سے بے مہر ہی رہا تم انتہائے عشق کا معیار ہی رہو تم خون تھوکتی ہو یہ سن کر خوشی ہوئی اس رنگ اس ادا میں بھی پرکار ہی رہو میں نے یہ کب کہا تھا محبت میں ہے نجات میں نے یہ کب کہا تھا وفادار ہی رہو اپنی متاع ناز لٹا کر مرے لیے بازار التفات میں نادار ہی رہو جب میں تمہیں نشاط محبت نہ دے سکا غم میں کبھی سکون رفاقت نہ دے سکا جب میرے سب چراغ تمنا ہوا کے ہیں جب میرے سارے خواب کسی بے وفا کے ہیں پھر مجھ کو چاہنے کا تمہیں کو...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں